غزلیات

کئی آکاس بیلیں ہیں جو اندر سے چمٹتی ہیں

کئی آکاس بیلیں ہیں جو اندر سے چمٹتی ہیں

بظاہر کچھ نہیں ان کو، وہ ہنستے مسکراتے ہیں

سنبھالے پھرتے ہیں بوجھ زمانے کے رویوں کا

چھپاتے ہیں دکھاتے ہیں، دکھاتے ہیں چھپاتے ہیں

کہیں خاموش لمحوں میں صدائیں گونجتی ان کی

آنکھیں چھپ کے روتی ہیں، یہ چہرے جگمگاتے ہیں

کوئی حال جو پوچھے ان سے تو پھر ان کا ہنر دیکھو

قسم سے جھوٹ کہتے ہیں، پھر اس پر مسکراتے ہیں

نہ موسم ساتھ دے جب، نہ سایہ، نہ سہارا کوئی

یہ تب بھی چلتے رہتے ہیں، خود ہی رستے بناتے ہیں

خزاں کے دن بھی سہتے ہیں، پھر زندہ ہیں بہاروں میں

یہ کیسے لوگ ہوتے ہیں، جو ہر موسم نبھاتے ہیں